اسلامی نظریہ ابلاغ | قرآن و حدیث کی روشنی میں | Dr Haseeb Warriach G.M Syed" " " " : " ( ) " : ( ) " ! : " 2018
از : عبید طاہر
His Book Elucidates The Transformative Potential Of These Proposed Markets In Propelling Afghanistan Towards Economic Self- Sufficiency And Fostering Collaborative Growth Within The Region
ڈاکٹر سہیل تاج کی زیر نظر مرتبہ کتاب میں عکسی مفتی کی زندگی ، ان کے خیالات و افکار اور خدمات کو انتہائی منفرد انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ممتاز مفتی اور خود عکسی مفتی کے حوالے سے بہت سے منفرد، دلچسپ اور اہم گوشوں پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو قارئین کے لیے آگہی معلومات اور انکشافات کے نئے دروازے کھولتی ہے۔
لیکن یہ تخلیقات محض ایبسرڈ نہیں بلکہ مصنف شعوری اور لاشعوری طور پر لا یعنیت کے بطن سے معنویت کی کھوج کرتے بھی محسوس ہوتے ہیں
He has a diverse academic background
یہ ڈاکٹر فرید حسینی کی کتاب ہے ۔ اور انتظار کے افسانوں اور ناولوں کے علامتی کرداروں اور ایجاد علامتوں پر ہے ۔ مجھے تنقید کی کتابوں سے ایک طرح کی کد ہے اور خاص کر پاکستان میں نقاد پروفیسروں کے ہاتھوں لکھی گئی کتابوں سے مگر کبھی کبھی اپنے کسی دوست کی کتاب پڑھنا پرتی ہے ۔ یہ کتاب مَیں نے اِسی حادثے کے پیشِ نظر پڑھنا شروع کی تھی ۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ اِس کتاب کی جادو بیانی نے مجھے پکڑ لیا ۔ اگرچہ یہ ایک تنقیدی کام تھا مگر تخلیقی وجود پائے ہوئے تھا ۔ اور مجھے اِس نے متاثر کیا ہے ۔ اصل میں علامتوں کے وجود اور اُن کے بیانیے کا سلیقہ جس پیرائے میں ڈاکٹر فرید حسینی نے اپنی اِس کتاب میں پھیلایا وہ قابلِ لائق ہے ۔ اِس کتاب میں نہ صرف افسانے کی مبادیات پر بات ہوئی ہے بلکہ علامت نے کیسے کردارےوں کے وجود اختیار کیے اور کس زمانے میں کیسے علامتیں عروج پر پہنچیں ، یہاں سب سمجھ آتی ہے ۔ انتظار حسین کو ا،س کتاب سے بہتر داد آج تک نہیں دی گئی ۔ تمام دوستوں کو ا،سے پڑھنا چاہیے خاص طور پر طلبا کو جنھیں افسانے یا علامت کے وجود سے شفا پانی ہے ۔
روس کے اس عظیم ادیب کامکمل نام ”کاﺅنٹ لیو نکولائی وچ ٹالسٹائی “ ہے۔وہ 1828ءمیں روسی صوبہ تولا میں یاسنایاپولیاناکے مقام پرایک جاگیردار گھرانے میں پیداہوئے۔ان کے خاندان کو نوابانہ مرتبہ زار پیٹر اعظم نے عطا کیا تھا۔ٹالسٹائی نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی اوربعدازاں ماسکو اور قازان کی یونیورسٹیوں سے قانون اور مشرقی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔حصول تعلیم کے بعد وہ اپنی جاگیر یاسنایا پولیانا پر واپس آگئے اور1851ءمیں قفقاز کی فوج میں بھرتی ہونے تک وہیں مقیم رہے۔ قفقاز میں انہوں نے روس کے معاشرتی ڈھانچے کے مسائل کامشاہدہ کرنا شروع کیااور ایک سال بعد ”بچپن ، لڑکپن اورجوانی “ کے عنوان سے اپنی سہ رخی سوانح عمری لکھی۔ انہوںنے کریمیا کی معروف جنگ میں بھی حصہ لیا تاہم سیوستاپول کی شکست کے بعد فوج سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ فوجی ملازمت چھوڑنے کے بعد وہ کئی برس تک سینٹ پیٹرز برگ میں مقیم رہے اور1862ءمیں یاسنایا واپس آکرسوفی آندریا نامی خاتون سے شادی کرلی۔دونوں کی شادی کامیاب رہی اور ابتدائی پندرہ برسوں میں ان کے ہاں تیرہ بچے پیدا ہوئے۔
ﺗﻮ ﮨﯽ ﺍﻋﻠﯽٰ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﮨﯽ ﻋﻠﯿﻢ
عبدالواحد کھیتران سے ان کی نئی کتاب
کوئی نجی ملکیت نہیں: کمیونزم کا مقصد نجی جائیداد کو استحصال کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اسے ختم کرنا ہے۔ 4
ان طویل راہداریوں میں لے جاتا ہے جہاں جگہ جگہ انسانی خون بکھرا ہوا ہے اور ان گنت پامال جہانوں سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے۔ یہ نظمیں انسانی زندگی کی ٹوٹ پھوٹ کے شکار معاشرے کا المناک رزمیہ ہیں۔ محمد انہیں رزاق مبارکباد کا مستحق ہے کہ وہ جو از جعفری جیسے بڑے نظم کو کی تقسیم کے سفر کو ہمارے
پیر پگاراعلی مردان مرحوم کا شمار ایک وقت میں پاکستان کے معروف سیاست دانوں میں ہوتا تھا۔ وہ پہلی مرتبہ پاکستان کے سایس منظر نامے پر 1973 میں اس وقت نمایاں ہوئے جب وہ یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربر اہ بنے تھے۔ پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کے دوران پیر پگارا کا شمارصف اول کے سیاسی رہنمائوں میں ہونے لگا تھا۔ جب قومی اتحادکے سبھی رہنمائوں کو بھٹو حکومت نے گرفتار کر لیا تو یہ پیر پگارا ہی تھے جنھوں نے بھٹو کے خلاف تحریک کا تسلسل جاری رکھا تھا۔جنرل ضیا الحق کے مارملائی دورحکومت میں تو انھیں بادشاہ گر کا درجہ حاصل تھا اور۔یہ بات زبان زد عام تھی کہ پیر صاحب جس سیاست دان کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے تھے اقتدار کا ہما اس سیاست دان کے سر پرآکر بیٹھ جاتا تھا ۔پیر صاحب کی یہ بادشاہ گری کی حیثیت جنرل ضیا الحق کےمارشل لا کے دوران اوربعدازاں کسی حد تک غلام اسحاق خان کے دور صدارت تک توقائم رہی لیکن 1990 کے بعد پیر صاحب پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں اپنی اہمیت اورحیثیت سے بتدریج محروم ہوتے چلے گئے اوران کی وفات سسے قبل ایک وقت توایسا بھی آیا کہ ان کی باتوں کوعوام اورپریس کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں تھے۔